چھلاوہ
- منگل 07 / اکتوبر / 2014
- 6855
(زیر تحریر ناول سے اقتباس)
نکے کے دادا کا گھر ترائی میں تقریباٌ ایک فرلانگ کے فاصلے پر ایک بہت پرانے شیو مندر کے پاس تھا۔ جس سے ذرا ہٹ کر مرگھٹ تھا جہاں کبھی ہندوؤں کی چتائیں جلانے کیلئے لائی جاتی تھیں۔ یہ جگہہ دریا سے کوئی بیس فٹ کی بلندی پر ہو گی اور یہاں سے ایک سیدھا راستہ نیچے دریا کی طرف اترتا تھا۔
بستی والوں کا خیال تھا یہاں بد روحیں اور بھوت پریت رہتے ہیں سو اس کے قریب کوئی دن میں بھی نہ پھٹکتا ۔ یہاں سے دائیں جانب ذرا آگے ایک چھوٹا سا قبرستان تھا جس سے ملحقہ زمین پر قبضہ کر کے قریشی صاحب نے اسے اب اپنے کھیتوں میں شامل کر لیا تھا۔ بستی کے کئی معتبر لوگ حلفیہ بتاتے تھے کہ دوپہر کے وقت یہاں سے گزرتے ہوئے انہیں کئی مرتبہ جنوں کی موجودگی کا احساس ہؤا ہے ، اور رات کو تو یہاں جشن کا سماں ہوتا ہے اور چڑیلیں بال کھولے غل غپاڑہ کر رہی ہوتی ہیں۔
خود فضلو کمہار نے تو مولوی صاحب کی موجودگی میں قسمیں کھا کر بتایا تھا کہ جیٹھ کے مہینے میں ایک دن دوپہر کو وہ گدھے پر اپنے برتن لاد کر بیچنے کیلئے شہر جا رہا تھا کہ مر گھٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے محسوس ہؤا جیسے اچانک اس کے قدم من من کے ہو گئے ہوں۔ گدھا بھی ڈولنے لگا تھا جیسے اس پر بہت زیادہ بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ حالانکہ ڈھیری عام وزن سے بھی کم تھی۔ اچانک کسی بچے کے رونے کی آواز آنے لگی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا بچہ مجھ سے کوئی دس قدم آگے راستے میں بیٹھا رو رہا ہے۔ میں سمجھا شاید کوئی عورت اسے یہاں بٹھا کر حاجت کیلئے کسی جھاڑی وغیرہ کے پیچھے گئی ہے۔ میں اسے بہلانے کیلئے آگے بڑھا تو بچہ غائب۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا قصہ ہے۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بچے کے رونے کی آواز پیچھے سے آنے لگی۔ مڑ کر دیکھا تو وہی بچہ دس قدم پیچھے بیٹھا رو رہو تھا اور آنکھیں اسکی ایسی تھیں جیسے تندور کا منہ۔
اب میں آگے جاؤں تو بچہ پیچھے۔ پیچھے آؤں تو بچہ آگے۔ میں سمجھ گیا آج نہیں بچتا۔ بس فوراٌ آیت الکرسی پڑھنے لگا۔ ادھر کھوتا تھا کہ رسہ چھڑا کر بھاگ جانا چاہتا تھا۔ میں نے مدد کیلئے لوگوں کو بلانا چاہا تو منہ سے آواز ہی نہ نکلے۔ اتنی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بچہ مرگھٹ کے کنؤیں کے پاس کھڑے بیری کے درخت پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا ہے اور اسکی ٹانگیں آہستہ آہستہ لمبی ہوتی ہوتی زمین کی طرف آ رہی ہیں۔ اب تو مجھے پورا یقین ہوگیا کہ آخری وقت آ گیاہے اور آج یہ جن مجھے چھوڑے گانہیں۔
ایسے میں مولوی صاحب اسکی بات کاٹتے ہوئے بولے:
اوئے کودن ! جن نہیں تھا وہ۔ جن تو عام طور سے مسلمان ہوتے ہیں۔ بھوت تھا بھوت! کسی کراڑ کی بھٹکتی ہوئی بد روح ہو گی۔ تو انکے علاقے میں جو چلا گیا تھا۔ دیکھتا نہیں اس علاقے سے گزرتے ہوئے کیسی گندی سی بو آتی ہے جیسے گوشت جل رہا ہو۔
فضلو کمہار کا بہنوئی دینو، اس موقع پر اپنے خدشے کا اظہار کیئے بنا نہ رہ سکا ۔ منہ سکیڑتے ہوئے بولا:
میرے خیال میں تو چھلاوہ تھا۔ یہ ایسے ہی کرتب دکھا دکھا کر پریشان کرتے ہیں انسانوں کو۔
فضلو کمہار اپنے بہنوئی پربرہم ہوتے ہوئے بولا:
اوئے جاہل! عالم مولوی صاحب ہیں یا تو۔ تجھے کیا پتہ ان باتوں کا۔ کتاب قاعدہ تو نے ایک نہیں پڑھا۔ ساری عمر مٹی گوندھ گوندھ کر تیرا اپنا دماغ مٹی ہو گیا ہے اور بات کاٹتا ہے تو مولوی صاحب کی۔ اچھا تو اُڑا لے مذاق جتنا چاہے۔ پر تجھے پتہ نہیں مذاق اُڑانے والوں سے بدلہ بھی لیتی ہیں یہ بد روحیں۔ ایک دن تجھے تیرا اپنا کھوتا بھی بھوت دکھائی دے گا۔ تب تجھے جن بھوت کا فرق خود ہی سمجھ آ جائے گا۔ کیوں مولوی صاحب! ٹھیک کہا میں نے!
مولوی صاحب جو اپنی بات رد کیئے جانے پر پیچ وتاب کھانے لگے تھے چہرے پر متانت طاری کرتے ہوئے بولے:
اللہ کی شان ہے بھائی۔ اب لوٹے گھڑے بنانے والے بھی علم کی باتیں کرنے لگے۔ کل کو نماز بھی پڑھانے لگیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ کمہار کا بچہ مسجد میں کم کم ہی نظر آتا ہے۔ شاید وقت نہیں ملتا اسے دین کے کاموں کیلئے۔ پھر کہتے ہیں کہ جی ہم مسلمان ہیں۔ امداد علی سے بھی اسکی یاری ہے۔ اسکا مسلک تو سب کو معلوم ہے۔ فتوے بھی آ چکے ہیں لیکن بھائی یہ تواسکی مجلسوں میں بڑے شوق سے جاتا ہے۔ ا ور کون نہیں جانتا کہ جب یہ برتن لے کر شہر جاتا ہے تو راستے میں وہاں چکلے میں ضرور رکتا ہے۔ اب کوئی پوچھے بھئی تیرا وہاں کیا کام ملعون۔
مولوی صاحب نے ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بات ختم کی تو سارا مجمع سر جھکائے نادم کھڑے دینو پر لعن طعن کرنے لگا۔
فضلو کمہار اپنی بات کا سرا پکڑتے ہوئے بولا:
تو بس سائیں جب کوئی اور چارہ دکھائی نہ دیا تو میں ہمت کرکے بولا:
دیکھ بھئی ! تو جو کوئی بھی ہے ، اگر مجھے مارنا چاہتا ہے تو مار دے یا پھر میرا راستہ چھوڑ دے اور مجھے آگے جانے دے۔ بس میرا یہ کہنا تھا کہ وہ بچہ بڑی مکروہ سی ہنسی ہنسنے لگا اور بھاری مردانہ آواز میں بولا:
یہ ہمارا علاقہ ہے ۔ ادھر ہمارے بچے کھیلتے ہیں تو ادھر سے گزرا کیوں۔ تجھے پتہ ہے تیرے کھوتے نے چلتے چلتے ہمارے بچے کو لات مار دی ہے۔
میں ہمت کر کے پھر بولا:
سائیں اس دفعہ تو معافی دے دو ۔ آئندہ اس راستے سے کبھی نہیں گزروں گا۔
وہ پھر بھاری آواز میں ہنستے ہوئے بولا:
چل تجھے تو اس وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں کہ تو بستی والوں کو جا کر بتا دے کہ اس علاقے میں کوئی نہ آئے۔ پر تیرے کھوتے کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔
بس جی اسکا یہ کہنا تھا کہ درخت پر بیٹھا لمبی ٹانگوں والا بچہ غائب۔ پاؤں بھی میرے ہلکے ہو گئے اور میں شہر جانے کی بجائے واپس گھر لوٹ آیا۔ گھر پہنچ کر مجھے تو بخار چڑھ گیا لیکن کھوتے کو نجانے کیا ہؤا کہ زمین پر گر کر پسلیٹے کھانے لگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہیں مر گیا۔
بس جی وہ دن اور آج کا دن ۔ میں تو پھر کبھی ادھر گیا نہیں۔
(انیس احمد ناروے میں مقیم ادیب اور تجربہ کار صحافی ہیں۔ گزشتہ برس ان کا ناول “ جنگل میں منگل “ وسیع پزیرائی حاصل کرچکا ہے۔ اس ناول کو پاکستان میں 2013 کے بہترین ناول کا خالد احمد ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ زیر نظر اقتباس انیس احمد کے زیر تحریر ناول سے لیا گیا ہے)