واقعہ کربلا میں عمرو سعد کا کردار

  • ہفتہ 08 / نومبر / 2014
  • 32872

عشرہ محرم 1436ھ کے دوران جریدے کاروان میں علامہ عبدالحق مجاہد صاحب کا ایک مضمون بعنوان “ سانحہ کربلا “ شائع ہؤا۔ جس میں مصنف کی جانب سے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ میں عموماً اس طرح کے مباحث میں حصہ نہیں لیتا، تاہم اس مضمون میں شائع ہونے والے مندرجہ ذیل اقتباس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کردیا۔

علامہ عبدالحق مجاہد صاحب لکھتے ہیں: “ عمرو بن سعد رضامند ہونے کے قریب تھا کہ نائب سپہ سالار شمر ذی الجوشن جو اول درجے کا بدبخت اور دشمن اہل بیت عظام تھا اس نے کوفہ کے گورنر عبیداللہ ابن ِ ذیادسے کہا کہ اگر حسینؓ بچ گئے تو وہ یزیدسے مسلم بن عقیل کے قصاص کا مطالبہ کریں گے جس کے عوض میں تم قتل کردئے جاؤ گے۔ بہتر ہے کہ حضرت حسین کا یہاں ہی کام تمام کردیا جائے۔ ابن ِ ذیادکی بد بختی غالب آگئی اس نے شمر ذی الجوشن کو اس دستے کا سربراہ مقرر کردیا جو حضرت حسینؓ سے نمٹنے کے لئے بھیجا گیاتھا۔ شمر نے کمان سنبھال لی اور دریائے فرات کا پانی بند کردیا۔ “

علامہ صاحب مزید لکھتے ہیں: “ شمر نے مطالبہ کیا کہ اس کے ہاتھ پر نائب یزید ہونے کی حیثیت سے پہلے بیعت کی جائے پھر یزیدکے ہاتھ پر بیعت کی جائے ۔حضرت امام حسینؓ نے اس ناپاک کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار فرمادیا۔ دراصل یہ ملعون شمر کی محض خباثت تھی وہ ہر حال میں نواسہ رسولؓ کو ختم کرنے کے درپے تھا۔“

مصنف نے مندرجہ بالا اقتباس میں دی گئی اپنی رائے کے بارے میں کوئی تاریخی حوالہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی تاریخ کے اس المناک ترین واقعہ میں شمرکا کردارانتہائی گھناؤنا اور ظالمانہ تھا تاہم مصنف نے جس طرح واقعہ کربلا کی ذمہ داری یزید ابن معاویہ، عبیداللہ ابن ذیاد اور عمرو بن سعد سے ہٹا کر اس واقعہ کی تمام ذمہ داری شمر ذی الجوشن پر ڈالنے کی کوشش کی ہے وہ بھی انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ میں نے اس تحریر میں کوشش کی ہے کہ کوئی بھی بات اپنی طرف سے نہ کروں بلکہ صرف اور صرف مستند تاریخی حوالوں سے خود کوکربلا میں یزیدی فوج کے سپہ سالار عمروابن سعد کے کردارتک محدود رکھوں۔

اسلامی تاریخ کی کم وبیش تمام ہی کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسین ؑ دو محرم 61 ھ کو کربلا پہنچے۔ جس کے بعد کوفہ کے گورنر عبیداللہ ابن ذیاد نے عمروسعد کو دربار میں طلب کیا اور اُسے چارہزار افراد پر مشتمل فوج کا سپہ سالار بنا کر کربلا جانے کی ہدایت کی۔ “ عمرو بن سعد بن ابی وقاص کو عبیداللہ ابن ذیاد نے رے کی حکومت دے دی اور اس کے نام فرمان لکھ دیا اور یہ کہا کہ میری طرف سے تم اس شخص(امام حسین ؑ ) سے سمجھ لو ۔ ابن سعد نے کہا مجھے تو معاف رکھئیے۔ ابن ذیاد کسی طرح نہ مانا تو اس (عمروبن سعد) نے کہا آج شب کی مہلت دیجئے ۔ اس (ابنِ ذیاد) نے مہلت دی اور یہ (عمروبن سعد) اپنے اس معاملہ کو سوچتا رہا۔ صبح ہوئی تو ابن ذیاد کے پاس آیا اور اس کے حکم کو بجا لانے پر راضی ہوگیا، اور حسینؓ بن علیؓ کی طرف روانہ ہوا “ (تاریخ طبری، حصہ چہارم، صفحہ 215۔ نفیس اکیڈمی، کراچی )

اسی باب میں ابن خلدون اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ : “ عمر بن سعد نے غورو فکر کرنے کے لئے ایک روزکی مہلت مانگی اپنے دوستوں، مشیروں سے مشورہ کیا۔ سب نے امام حسینؓ بن علیؓ کے مقابلہ پر جانے کو منع کیا۔ رات بھر پڑا سوچتا رہا صبح کو ذیل کے اشعار پڑھتا ہؤا ابن ذیاد کے پاس گیا:
اترک ملک الرے والرے عغبۃ ام رجع مذموماً بقتل حسین
وفی قتلہ النار ا لتی لیس دونھا حجاب و ملک الرے قرۃ عین
ترجمہ: کیا میں ملک رے کو چھوڑ دوں اور ملک رے ہی کی مجھے خواہش ہے یا حسینؓ کو قتل کر کے مذموم واپس آؤں لیکن ان کے قتل کرنے سے دوزخ میں جاؤں گا جس کا کوئی مانع نہیں اور ملک رے کی حکومت میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ " (تایخ ابن خلدون حصہ دوم، صفحہ 105 )

ابن خلدون مزید لکھتے ہیں : “ عمر بن سعد نے حکومت رے کی طمع میں پڑ کر حسینؓ کے مقابلے میں جانا منظورکرلیا۔ چنانچہ اسی چار ہزار فوج کو لئے ہوئے آپ کے مقابلے پر جا پہنچا۔ “ (تایخ ابن خلدون حصہ دوم، صفحہ 105 )

عمروبن سعد تین محرم کو کربلا پہنچا۔ جس کے بعد عمروبن سعد بذریعہ قاصد امام حسین ؑ سے کربلا آنے کا سبب دریافت کیا ۔ “ آپ نے جواب دیا کہ تمھارے شہروالوں نے مجھے لکھاکہ آپ یہاں آئیے۔ اب اگر میرا آنا انھیں ناگوار ہے، میں واپس چلا جاؤں گا۔ “ (تاریخ طبری، حصہ چہارم، صفحہ 238۔ نفیس اکیڈمی، کراچی )
عمروابن سعد نے یہ بات ایک خط میں لکھ کر ابن ذیاد کوارسال کردی۔  “ ابن ذیاد کو یہ خط جب سنا یا گیا تو اس نے یہ شعر پڑھا۔
الآن اذ عقلت مخا لبنا بہٰ یر جو النجاۃ ولات حین مناص
یعنی جب ہمارے پنجہ میں پھنس گئے تو نکلنا چاہتے ہیں اب تو ان کے لئے مفر نہیں۔“ (ایضاً)

بعد اذاں “ ایک اورخط ابن ذیاد کا ابن سعد کو آیا۔ اس میں یہ مضمون تھا کہ نہر کے اور حسینؓ کے درمیان حائل ہوجا۔ ایک بوند پانی وہ لوگ نہ پی سکیں۔ جو سلوک کہ تقی زکی مظلوم امیرالمومنین عثمانؓ بن عفان کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس خط کو دیکھ کر ابن سعد نے عمروبن حجاج کو پانسو سواروں کا رئیس کرکے روانہ کیا یہ لوگ نہر پر جاکر ٹھہرے اور نہر اور حسینؓ و اصحاب حسینؓ کے درمیان حائل ہوگئے کہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہ پینے پائیں۔ “ (ایضاً صفحہ 238۔ 239)

بندش آب کے حوالے سے ابن خلدون لکھتے ہیں: “ ابن ذیاد نے لکھا کہ حسینؓ سے یزید کی بیعت لو اگر وہ بیعت کرلیں تو جو مناسب ہوگا کیا جائے گا۔ اور اگر بیعت سے انکار کریں تو بے تامل جنگ کرو اور اُن پر اور اُن کے ہمراہیوں پر پانی بند کردو۔ پس عمر بن سعد نے عمروبن الجاج کو بسروگروہی پانچ سو سواروں کے نہر پر متعین کیا چنانچہ یہ لوگ فرات اور امام حسینؓ کے درمیان حائل ہوگئے۔“(تایخ ابن خلدون حصہ دوم، صفحہ 105-106)

تاریخ کی تمام کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ بندش آب کا آغاز7 محرم سے ہؤا۔ اس کے بعد ہونے والے واقعات کے مطابق اسی شب امام حسین ؑ اورعمروبن سعد کے مابین ایک طویل ملاقات ہوئی ۔ جس کے بعد یہ دونوں افراد “ پھر اپنے اپنے اصحاب کے ساتھ اپنے اپنے لشکر میں چلے آئے۔ لوگوں نے اپنے اپنے وہم وگمان سے کہنا شروع کیا کہ حسینؓن نے ابن سعد سے کہا تو میرے ساتھ یزید کے پاس چل۔ دونوں لشکروں کو ہم یہیں چھوڑ دیں۔ ابن سعد نے کہا میرا گھر کھود دڈالا جائے گا۔ آپ ؑ نے کہا میں بنوادوں گا۔ اس نے کہا میری جاگیریں چھین لی جائیں گی۔ آپ ؑ نے کہا اس سے بہتر میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گاجو حجاز میں ہے۔ ابن سعد نے اسے گوارہ نہ کیا “ (تاریخ طبری۔ صفحہ 240)۔

صاحب تاریخ ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں رقم طراز ہیں “ کہ عبدالرحمٰن بن جندب نے بحوالہ عقبہ بن سمعان مجھ سے بیان کیا کہ میں مکہ سے قتل کے وقت تک حضرت حسینؓ کے ساتھ رہا ہوں اور قسم بخدا آپ نے میدان کارزار میں جو بات بھی کی ہے میں نے اسے سنا ہے اور آپ نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ آپ یزید کے پاس جاتے ہیں اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور نہ ہی آپ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ آپ کسی سرحد کی طرف چلے جاتے ہیں بلکہ آپ نے دو باتوں میں سے ایک کا مطالبہ کیا ہے کہ یا تو وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس چلے جاتے ہیں اور یہ وہ آپ کو وسیع و عریض زمین میں جانے کے لیے چھوڑ دیں تاکہ وہ دیکھیں کہ لوگوں کی امارت ان کے پاس آتی ہے ۔ پھر عبید اللہ ابن ذیاد نے شمر ذی الجوشن کو بھیجا اور کہا ، اگر حضرت حسینؓ اور ان کے اصحاب میرے حکم کو قبول کریں تو فبہا وگرنہ عمربن سعد کو ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دو اور اگر وہ اس سے گریز کرے تو اسے قتل کردینا پھر تم ہی لوگوں کے امیر ہوگے“ (تاریخ ابن کثیر ، جلد ہشتم، صفحہ 227)

“ شمر جب ابن ذیاد کا خط لے کر ابن سعد کے پاس آیا ۔ اس نے خط کوپڑھا ۔ ابن سعدنے شمر سے کہا وائے ہو تجھ پر تونے کیا حرکت کی خدا تیرے ہمسائے سے بچائے۔ خدا غارت کرے یہ کیا تو میرے پاس لے کرآیا ہے۔ واللہ میرا یہی گمان ہے کہ تو نے ہی اس کی رائے کو پھیر دیا کہ میری تحریر کو نہ مانے۔ جس معاملہ میں اصلاح کی ہم کو امید تھی تو نے اسے بگاڑ دیا۔ واللہ حسینؓ گردن جھکانے والے شخص نہیں ان کے پہلو میں وہ دل ہے جو برداشت نہیں کرسکتا۔  شمر نے کہا یہ تو بتا تیرا کیا ارادہ ہے۔ اپنے امیر کے حکم پر چلے گا۔اس کے دشمن کو قتل کرے گا؟ یہ نہیں تو لشکر کو مجھ پر چھوڑ دے۔ ابن سعد نے کہا نہیں تجھے لشکر نہیں مل سکتا۔ میں خود یہ کام کروں گا۔ شمر نے کہا پھر تمھیں یہ کام کرو۔ “
(طبری صفحہ 242)

جس کے بعد 9 محرم کی سہ پہر ابن سعد لشکرلے کر جنگ کے لئے امام حسین ؑ کے خیام کی طرف چلا۔امام حسین ؑ نے ایک شب کی مہلت طلب کی ۔ امام ؑ عالی مقام نے فرمایا: “ آج کی رات ہم اپنے پروردگار کی عبادت کریں۔ اس سے دعا کریں۔ اس سے مغفرت طلب کریں۔ خدا ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی عبادت کو، اس کی کتاب کی تلاوت کو، دعا و استغفار کی کثرت کو میں دوست رکھتا ہوں“ (طبری صفحہ  244-245)

ابن سعد نے عمروبن الحجاج اور قیس بن اشعث کے مشورے پر امام حسینؓ کوایک شب کی مہلت دے دی۔ جس کے بعد 10 محرم بروز جمعہ عمرو ابن سعد اپنی فوج کو ساتھ لے کر نکلا۔ “ ابن سعد نے میمنہ پر عمرو بن حجاج کو مقرر کیا۔ میسرہ پر شمر بن ذی الجوشن ابن شرحیل کو متعین کیا۔ رسالہ عزرہ بن قیس کو دیا۔ پیادے شبث بن ربعی کے حوالے کئے اور اپنے غلام آذاد دُرید کو لشکر کا علم دیا۔“ (طبری صفحہ 250)

“ عمر ابن سعد نے اپنے میمنہ پر عمرو بن الحجا ج الہندی اور میسرہ پر شمر بن ذی الجوشن کوامیر مقررکیا۔۔۔ اور سواروں پرعزرۃ بن قیس احمسی اور پیادوں پر شبث بن ربعی کو امیر مقرر کیااور اپنے غلام وردان کو جھنڈا دیا۔ “ (تاریخ ابن کثیر صفحہ 230)

اس کے بعد “ عمرو ابن سعد نے آگے بڑھ کر اپنے غلام سے کہا اے دُرید اپنے جھنڈے کو قریب کرو اس نے اسے قریب کیا پھر عمرو نے اپنی آستین چڑھائی اور تیر مارا اور کہا، میں لوگوں کو تیر مارنے والا پہلا شخص ہوں“ (ایضاً صفحہ 234)

آغازجنگ کے واقعہ کو تقریباً تمام ہی مؤرخین نے اپنے اپنے انداز میں رقم کیا ہے۔ ابن خلدون کے مطابق “ اس کے بعد عمروابن سعد بڑھا۔ کمان سے تیر جوڑکر امام حسینؓ کی طرف مار کر بولا، لوگو! گواہ رہنا سب سے پہلے میں ہی نے تیر چلایاہے۔“( ابن خلدون صفحہ117)
“ عمروبن سعد لڑنے کو نکلا ۔ پکار کر کہا، اے درید نشان کو بڑھا۔ اس کے بعد ابن سعد نے کمان میں تیر جوڑااور سر کیا۔ کہنے لگا تم سب لوگ گواہ رہو سب سے پہلے میں نے ہی تیر مارا۔“ (طبری صفحہ256)

امام حسین ؑ کی لاش کی بے حرمتی
شہادت امام حسین ؑ اور اصحاب حسین ؑ کے بعد عبیداللہ ابن ذیاد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے “ ابن سعد نے اپنے ساتھ والوں میں یہ منادی کی کہ کون کون لوگ اپنے گھوڑوں سے حسینؓ کو پامال کریں گے۔ یہ سن کر دس شخص نکلے۔۔۔ یہ دسوں سوار آئے اور اپنے گھوڑوں سے حسین ؓ کو پامال کیا۔ اس طرح کہ ان کے سینہ و پشت کو چور چور کردیا۔ “ (طبری صفحہ 280)
“کہتے ہیں کہ عمرو بن سعد کے حکم سے دس سواروں نے اپنے گھوڑوں کے سموں سے حضرت حسینؓ کو روندا حتیٰ کہ معرکہ کے روز انھیں زمین کے ساتھ چپکا دیا۔ “ (تاریخ ابن کثیر ، صفحہ 243-244)
“ اس کے بعد عمرو بن سعد کے حکم سے دس سواروں نے آپ ؑ کی نعش کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا۔ “ (تاریخ ابن خلدون ، صفحہ 130)

میں نے اس تحریر میں پوری دیانت اور تاریخی حوالوں کے ساتھ واقعہ کربلا میں عمروابن سعد کے کردار کو واضح کردیا ہے۔ میری یہ کوشش اور خواہش ہے کہ تاریخی موضوعات پر اٹھاتے وقت شخصی رائے دینے کے بجائے مستند حوالوں سے بات کی جائے تاکہ قارئین اصل حقائق سے آگاہ ہوسکیں۔ وما علیناالابلاغ