کچھ ابن خلدون کے بارے میں

  • تحریر
  • سوموار 12 / ستمبر / 2016
  • 48016

جہاں تک عربی ادب کا تعلق ہے ابن خلدون کا ’’مقدمہ‘‘ ادب نہیں ہے، اس لیے کہ اس کی زبان و بیان میں وہ صفائی وہ بلاغت اور وہ حُسنِ ادا نہیں ہے جو عربی کے قدیم و جدید ادبا کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ مقدمے کی عبارت میں طولِ کلام بھی ہے، تکرار بھی ہے، اور بعض جگہوں میں الجھاؤ بھی ہے۔

یوں سمجھیے کہ یہ ایک فلسفی کی عبارت ہے جس کا مقصد اپنا مافی الضمیر پوری طرح بیان کر دینا ہے۔ اس سے اسے کوئی غرض نہیں کہ عبارت میں اختصار کا حسن اور ادبی چاشنی پیدا ہوئی یا نہیں۔ پوری تاریخ میں بہت کم فلسفی ایسے ہوئے ہیں جن کی تحریر سہل اور ادبی خوبیوں کی حامل ہو۔ پھر ابنِ خلدون کی اپنی لفظیات ہیں اور اپنی خاص اصطلاحات ہیں جن کا مفہوم اس کے زمانے میں تو آسانی سے سمجھا جا سکتا تھا، لیکن آج کل ان کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے ’’مقدمے‘‘ کو بار بار اور سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر بغور پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مفہوم بغیر اس کاوش کے آج کل بڑے بڑوں کی سمجھ میں نہیں آتا اور وہ ابن خلدون کا مدّعا جاننے میں عجیب و غریب غلطیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اس کی ایک مثال لفظ ’’عصبیۃ‘‘ ہے جو وہ اپنے مقدمے اور اپنی تاریخ میں جگہ جگہ استعمال کرتا ہے۔ ابن خلدون نے یہ لفظ ’’گروہی شعور‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا ہے، یعنی ایک گروہ یا ایک قبیلے کا وہ شعور جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر رکھتا ہے اور ان کی اجتماعی قوت کا باعث ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں لفظ عُصَبۃ گروہ کے معنوں میں آیا ہے۔ اخوان یوسف اپنے آپ کو عصبۃ (یعنی جتھا) کہتے تھے۔ چناںچہ لفظ ’’عصبیۃ‘‘ ابن خلدون کے ہاں مثبت معنوں میں استعمال ہوتا ہے، اُن منفی معنوں میں نہیں جو ہمارے ہاں اردو لفظ عصبیت کے لیے جاتے ہیں، یعنی تعصّب (Bias) اور بے جا طرف داری ! لیکن ہمارے ادیبِ شہیر اور عظیم دانش ور جنابِ جمیل الدین عالی بے چارے ابن خلدون پر برس پڑے ہیں کہ اس نے اپنے ’’مقدمے‘‘ میں عصبیت کی اتنی تحسین کی ہے اور اس کی اہمیت جتائی ہے۔

فرماتے ہیں: ’’خاکم بدہن مجھے حیرت ہے کہ ابن خلدون جیسے زیرک عالم نے عصبیت کو اجاگر ہی اجاگر کیا، اس کے کم اور ختم کرنے کی قدرت اور امکانات پر کوئی ’’اصلاحی‘‘ کوئی تبلیغی فکر و تحریر آمیز نہیں کی۔‘‘  کہتے ہیں ’’مجھے اپنے کالج کے زمانے سے اپنی انتہائی کم علمی کے باوجود ’’مقدمے‘‘ کے بنیادی موقفِ عصبیت سے اس وقت بھی اختلاف پیدا ہُوا اور اتنی عمر کے باوجود آج بھی ہے۔ ‘‘ بے چارے ابن خلدون کو کیا پتا تھا کہ اس کے چھہ سو سال بعد ایک ایسے مفکّر اور صاحبِ بصیرت آئیں گے جو اس کے موقفِ عصبیت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر اسے ملیامیٹ کر دیں گے اور اس امر پر حیرت کا اظہار کریں گے کہ اس جیسے ’’زیرک عالم نے عصبیت کو کم اور ختم کرنے کی قدرت اور امکانات پر کوئی’’اصلاحی‘‘ کوئی تبلیغی فکر و تحریر آمیز نہیں کی۔‘‘  جنابِ عالی کا خیال ہے کہ ’’ابن خلدون کو چھہ سو برس سے زیادہ گزرے، آج کی دنیا میں زیادہ مؤثر نہ سہی عالمی برادری کے رجحانات تیزی سے اُبھر رہے ہیں۔ اغلباً اگلے دو ڈھائی سو برس میں ابن خلدون کا نظریۂ عصبیت محض ایک مردہ نظر یے کی صورت میں تاریخِ فکر کے ریکارڈ پر رہ جائے گا۔‘‘ چلیے قصہ ہی تمام ہُوا۔

لگتا ہے ’’ابن خلدون اور جدید تعلیمی نظریات‘‘ کی کتاب پر یہ ’’حرفے چند‘‘ انہوں نے اپنے اخباری کالم کی طرح آرام کرسی پر لیٹے ہوئے اِملا کردیا ہے، اور سُنی سُنائی باتوں اور غلط اردو ترجموں پر اعتماد کرتے ہوئے ’’عصبیۃ‘‘ کا وہ مطلب لیا ہے جو پڑھی لکھی اور باخبر دُنیا جانتی ہے کہ ابن خلدون کے ذہن میں نہیں تھا۔ مشہور مستشرق Franz Rosenthal ابن خلدون کے ’’مقدمے‘‘ کے سب سے بڑے اور سب سے معتبر مترجم ہیں۔ انھوں نے ابن خلدون کی اصطلاح ’’عصبیۃ‘‘ کا ترجمہ ہر جگہ Group Feeling کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ تعصّب اور Bias سے مختلف چیز ہے۔ اس لفظ کے مفہوم پر بحث کرتے ہوئے وہ آخر میں کہتے ہیں:
"At any rate, so far as our present knowledge goes it seems that his use of the term "asabiyah" in so positive a sense is his most original single intellectual contribution to the Muqaddimah"
(بہ ہر صورت جہاں تک ہمارے موجودہ علم کا تعلق ہے یہ لگتا ہے کہ اس کا ’’عصبیۃ‘‘ کی اصطلاح کا اتنے مثبت انداز میں استعمال کرنا اس کی اپنے ’’مقدمے‘‘ کے لیے سب سے اوریجنل اور واحد دانش ورانہ عطا ہے)
لوگوں کو روز کا کالم لکھتے اور کسی گہرے علمی مسئلے پر بات کرتے ہوئے کچھ فرق تو ملحوظ رکھنا چاہیے!

ابن خلدون کا مقدمہ عربی میں درمیانے ٹائپ کے چھہ سو صفحات کی ایک ضخیم کتاب ہے۔ فرانزروزنتھاں نے انگریزی میں اس کا جو ترجمہ کیا ہے وہ تین جلدوں میں آیا ہے اور ہر جلد چار سو صفحات کی ہے۔ اس لیے اس پورے مقدمہ کا ترجمہ اپنی جگہ ایک بڑا کام ہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ ابن خلدون کی عربی عبارت کا ترجمہ اس کی خاص ڈکشن اور الفاظ کے انوکھے استعمال کی وجہ سے آسان نہیں ہے۔ راقم الحروف نے ایک زمانے میں تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ صفحات میں اردو سے عربی اور عربی اور انگریزی سے اردو میں ترجمے کا کام کیا۔ لیکن جب ایک مقصد کے لیے اسے ابن خلدون کے مقدمے کا اردو میں ترجمہ کرنا پڑا تو اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ اردو میں اب تک مقدمے کے جو ترجمے ہوئے ہیں وہ پابندِ اصل نہیں ہیں۔ مترجمین عموماً اصل کو سامنے رکھ کر اپنی زبان میں اس کا مفہوم ادا کردیتے ہیں۔ ایسی کتابوں میں ابن خلدون کی خاص اصطلاح ’’عصبیۃ‘‘ کا ترجمہ جب عصبیت کیا گیا تو جمیل الدین عالی جیسے اساطینِ ادب بھی گم راہ ہوگئے اور بے وجہ بے چارے ابن خلدون کو آڑے ہاتھوں لینے لگے۔

اب اس مضمون کے آخر میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مقدمے کے ہزاروں عنوانات میں سے کچھ عنوانات نمونے کے طورپر پیش کیے جائیں، یہ بتانے کے لیے کہ ابن خلدون نے کس طرح کے امور پر اپنی فکر اور رائے کا اظہار کیا ہے، اور اس سلسلے میں کسی ایک موضوع کے کچھ حصے کا پابندِ اصل (Faithful) ترجمہ دیا جائے، تاکہ صاحبِ مقدمہ کی فکر کا انداز اور اس کا طرزِ اظہار قارئین کے سامنے آ جائے۔ مقّدمے کے چند عنوانات اس طرح سے ہیں:
~ انسانی تہذیب و تمدن (العُمران البشری) کے بارے میں۔
~ انسان کا معاشرتی نظام (الاجتماع الانسانی) ضروری ہے۔
~ زمین کے معتدل اور غیرمعتدل منطقے۔ ہوا کا اثر انسانوں کی رنگت پر اور ان کے حالات کے دوسرے پہلوؤں پر۔
~ انسانی کردار پر آب و ہوا کا اثر۔
~ نبوّت کی حقیقت، نیز غیب جاننے کے مدّعیوں یعنی جوتشیوں، خوابوں کی تاویل کرنے والوں اور منّجموں کے حالات۔
~ بادیہ کے (یعنی دیہاتی، قبائلی) لوگ شہر کے لوگوں کی نسبت شجاعت سے قریب تر ہوتے ہیں۔
~ گروہی شعور (عصبیۃ )کا ہدف غلبے کا حصول ہوتا ہے۔
~ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کی تقلید کرنا چاہتی ہے، اس کی خاصیت میں، اس کے لباس میں، اس کے مذہب میں اور اس کے دوسرے احوال و عادات میں۔
~ اقتدار کی سیاست کے معاملے میں عرب لوگ سب قوموں سے پیچھے ہیں۔
~ اشخاص کی طرح ملک و سلطنت کی بھی طبعی عمریں ہوتی ہیں۔
~ ظلم (ناانصافی) تہذیب کے زوال کا باعث ہوتا ہے۔
~ سلطنتیں انتشار کا شکار کس طرح ہوتی ہیں۔
~ انسانی تہذیب کو اس کی تنظیم کے لیے سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔
~ شہروں کی منصوبہ بندی کے لیے کچھ لوازمات ہوتے ہیں۔ ان لوازمات سے غفلت برتنے کے نتائج
~ مساجد اور دنیا کی مقدس عمارات۔
~ ایک متمکّن اور بے حرکت (Sedentary) تہذیب انسانی تمدن کی آخری منزل ہوتی ہے۔ یہ اس کے عرصۂ عمر کا گویا خاتمہ ہوتی ہے، اور اس کو فساد اور بگاڑ سے دوچار کرتی ہے۔
~ خوش بختی اور منفعت اکثر حالات میں ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو عاجزی اور چاپلوسی کے عادی ہوتے ہیں۔ اس طرح کا کردار خوشی کے حصول کا ایک سبب ہوتا ہے۔
~ ایسے لوگوں کی قسم جنھیں تجارت کا پیشہ اپنانا چاہیے، اور ایسے لوگوں کی قسم جنھیں اس سے دُور رہنا چاہیے۔
~ تاجروں کے کرداری اوصاف ان لوگوں کے مقابلے میں فروتر ہوتے ہیں جو اشراف کہلاتے ہیں۔ تاجروں کے اوصاف جواں مردی سے بہت دور ہوتے ہیں۔
~ تمام انسانوں میں عرب لوگ پیشوں اور دست کاریوں (الصنائع) سے سب سے کم آشنا رہے ہیں۔
~ انسان میں سوچنے کی صلاحیت۔
~ علوم کی وہاں کثرت ہوتی ہے جہاں انسانی تمدّن کی فراوانی ہو اور تہذیب کا مرتبہ اونچا ہو۔
~ علوم قرآنی کے باب میں: اس کی تفسیر اور مختلف قرأتیں۔
~ علوم حدیث کے باب میں۔
~ علم تصوّف کے باب میں۔
~ خوابوں کی تعبیر کا علم۔
~ علوم عقلیہ اور ان کی مختلف اصناف۔
~ علم ہیئت (Astronomy) ۔
~ فلسفے کا ردّ، اور فلسفے کا شغل اختیار کرنے والوں کا گم راہ ہونا۔
~ علوم و فنون میں تصانیف کی بہتات علم کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے۔
~ طالب علموں پر تشدد کرنا ان کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔
~ ایک علم کے متلاشی کی تعلیم کا معیار بہت بلند ہو جاتا ہے اگر وہ علم کی تلاش میں سفر کرے، اور اپنے وقت کے مستند عالموں سے ملاقات کرے۔
~ اسلام میں زیادہ تر علما عجمی (ایرانی) ہوئے ہیں۔
~ کلام کی دو صورتیں، نظم اور نثر۔
~ عمدہ نظم کہنا اور عمدہ نثر لکھنا، یہ دونوں صفات شاذونادر ہی ایک انسان میں جمع ہوتی ہیں۔
~ اہل مراتب شعر کہنا اپنی شان سے کم تر سمجھتے ہیں۔

طوالت سے بچنے کے لیے ایک آسان موضوع چن لیتے ہیں اور اس کے بھی ایک ابتدائی حصے کا بالکل لفظی اور مطابقِ اصل ترجمہ یہاں قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں۔ موضوع ہے ’’مساجد اور دنیا کی عظیم عمارات‘‘ اور اس کے ابتدائی کچھ حصے کا ترجمہ یوں ہے:
’’جان لو کہ اﷲ سبحانہ تعالیٰ نے اس زمین کے کچھ ٹکڑوں کو فضیلت بخشی اور انھیں خصوصیت کے ساتھ اپنا شرف عطا کیا۔ انھیں اپنی عبادت کی ایسی جگہیں قرار دیا جہاں عبادت کرنے سے دُہرا ثواب حاصل ہوتا ہے، اور جہاں اجر میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور نبیوں کی زبانی ہم تک پہنچایا۔ یہ اس کا اپنے بندوں پر کرم تھا اور ان کے لیے سعادت کی راہوں کو آسان کرنا تھا۔

صحیحین (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) کے مطابق تین مسجدیں اس زمین کے سب سے افضل ٹکڑے ہیں۔ یہ ہیں مکّہ، مدینہ اور بیت المقدس! بیت الحرام جو مکّہ میں ہے وہ ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا گھر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ یہ گھر تعمیر کریں اور لوگوں کو حج کرنے کے لیے اس کی طرف بلائیں۔ چناںچہ انہوں نے اور ان کے فرزند اسماعیل ؑ نے قرآن کی نص کے مطابق، ا س کو تعمیر کیا اور جس بات کا اﷲ نے انہیں حکم دیا تھا اس پر عمل کیا۔ اسماعیل علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہ کے ساتھ اور جرہُم (قبیلے) سے جو بھی ان کے ساتھ آیا تھا، اس میں رہے، یہاں تک کہ اﷲ نے انہیں بلا لیا اور وہ خانہ کعبہ کے شمالی گوشے (حجر) میں دفن ہوئے۔
اور بیت المَقدِس کو داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے تعمیر کیا۔ ان کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کی مسجد بنائیں اور اس میں اس کے لیے یادگار تعمیریں کھڑی کریں۔ حضرت اسحاق ؑ کی اولاد میں سے بہت سے انبیا اس میں دفن ہیں۔
اور مدینہ ہمارے نبی محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت کا شہر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اس کی طرف جانے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ اس میں دین اسلام کو قائم کیا جائے۔ چناںچہ انہوں نے اس میں اپنی مسجدِ مقدّس تعمیر کی، اور ان کا معّزز مدفن بھی اسی شہر کی زمین میں ہے۔

چناںچہ یہ تینوں مسجدیں مسلمانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، ان کے دل کا قرار اور ان کے دین کی عظمت کے نشان ہیں۔ احادیث اور تاریخ کی کتابوں میں ان کی فضیلت، ان کے قریب رہنے اور ان میں نماز پڑھنے کی صورت میں کئی گنا ثواب ملنے کے بارے میں روایات ملتی ہیں۔ ہمیں اب ان تینوں مساجد کی اوّلیت کے بارے میں کچھ کہنا چاہیے کہ ان کے حالات کن تدریجی مراحل سے گزرے، یہاں تک کہ دنیا میں ان کا ظہور مکمل ہوگیا!

آگے ابن خلدون نے ان میں سے ہر مسجد کی مفصل تاریخ بیان کی ہے اور ان سب حوادث و واقعات کا ذکر کیا ہے جو تاریخ میں اس کو پیش آئے۔ یہ موضوع جو بہ ظاہر چھوٹا لگتا ہے کتاب کے چھہ صفحات میں آیا ہے چناں چہ اس کے باقی حصے کے ترجمے کی گنجائش اس مضمون میں نہیں نکل سکی۔

ابن خلدون کا بطور مؤرخ کے اتنا اونچا مقام نہیں ہے جتنا اس کے فلسفۂ تاریخ کا موجد ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ اپنی تاریخ میں اس نے اپنے سے پہلے اور اپنے معاصر مؤرخین (طبری ، مسعودی، ابن مسکویہ، ابن الاثیر اور ابوالفداوغیرہ) کا وہی روایتی طریقہ اختیار کیا ہے جو پہلے سے چلا آتا تھا، اور مقدمے میں اس نے تاریخ لکھنے کا جو فلسفہ بیان کیا اور صحیح تاریخ لکھنے کے لیے جو شرائط وضع کیں ان پر اس نے اپنی تاریخ لکھتے ہوئے خود عمل نہیں کیا۔ چناںچہ عام خیال یہی ہے کہ جہاں تک مشرق کے عرب ممالک کا تعلق ہے، ان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے وہ دوسرے مؤرخین سے ممتاز نظر نہیں آتا۔ البتہ اپنے زمانے کے شمال مغربی افریقہ کی تاریخ چوںکہ اس نے ٹھیک ٹھیک (accurately) اور اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر لکھی ہے، اس لیے اس کی تاریخ کا یہ حصہ بہت مستند اور قیمتی معلومات سے پُر ہے۔ اس نے ان علاقوں کی تاریخ اس طرح بیان کی ہے کہ گویا وہ اس میں ہونے والے سب واقعات کا خود ایک کردار تھا (اور یہ صحیح ہے کہ ان میں سے بہت سے واقعات میں وہ خود شامل تھا)۔

تاریخ نویسی کے دو طریقے رائج رہے ہیں۔ ایک یہ کہ سنین کا عنوان قائم کرکے ان میں ہونے والے واقعات کا بیان کیا جائے، چاہے ان کا تعلق کتنی ہی حکومتوں اور خلافتوں سے ہو۔ یہ طریقہ طبری، ابن الاثیر اور ابوالفدانے اختیار کیا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خلافتوں اور حکومتوں کے عنوان بنا کر مختلف سنین میں ان کو پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا جائے۔ یہ طریقہ ماضی میں مسعودی اور بعد میں ابن طقطقیٰ کا رہا ہے۔ یہی طریقہ ابنِ خلدون نے بھی اپنی تاریخ میں اختیار کیا ہے۔ یعنی ایک حکومت کو لے کر اس کو تاریخ میں پیش آنے والے واقعات کا احوال بیان کیا جائے اور اس کے بعد کسی اور شاہی خاندان کو عنوان بنا کر اس کے عہد بہ عہد حالات کا تذکرہ کیا جائے۔

ابن خلدون کے بارے میں ہمارے ملک کے ایک بڑے دانش ور کے خیالات تو آپ اوپر دیکھ آئے۔ اس کے بارے میں علمی و فکری دنیا کی بہت اہم شخصیات نے کیا کہا ہے۔ یہ بھی ذرا دیکھتے چلیے:

(1) شمیدٹ اپنی کتاب ’’ابن خلدون‘‘ میں لکھتا ہے کہ دؤزی نے ایک جگہ ابن خلدون کے تاریخی کرداروں کی اس بلندی (یعنی کشادہ دلی اور بے تعصبی )کی طرف صریح اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ قرون وسطیٰ کے عیسائی مؤرخین اس قابل نہیں ہیں کہ اس خصوص میں ان کو ابن خلدون کے مقابلے میں پیش کیا جا سکے۔

(2) فلسفۂ تاریخ میں ابن خلدون کا کیا مقام ہے؟ عصر حاضر کے عالمی مؤرخ ٹائن بی کی زبانی سنیے، کہتا ہے:
’’جہاں تک اس علم کا تعلق ہے عربی لٹریچر ایک ہی آدمی کے نام سے روشن ہے اور وہ ہے ابن خلدون! عیسائی دنیا اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتی۔ حتیٰ کہ افلاطون، ارسطو اور آگسٹین بھی اس خصوص میں اس کے ہم پایہ نہ تھے‘‘۔

(3) علامہ اقبال ابن خلدون کے مداحوں میں شامل تھے اس لیے کہ اس نے فلسفۂ تاریخ کی بنیاد زندگی کے حرکی نظریے پر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دراصل زندگی اور تاریخ کا یہ تصور مسلمانوں کی فکر کے بنیادی منبع قرآن مجید میں موجود ہے۔ چناںچہ قرآنی آیات کا حوالہ دینے کے بعد وہ لکھتے ہیں۔
’’گویا بڑے حکیمانہ اندازمیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ اُممِ انسانی کا مطالعہ بھی ہمیں بہ غور اجسامِ نامیہ علمی نہج پر کرنا چاہیے۔ لہٰذا اس سے بڑی غلط فہمی اور کیا ہو سکتی ہے کہ قرآن پاک میں کوئی ایسا خیال موجود نہیں جو فلسفۂ تاریخ کا سرچشمہ بن سکے۔ حالاں کہ بہ نگاہِ حقیقت اگر دیکھا جائے تو ابن خلدون کا ’’مقدمہ‘‘ سر تا سر اُس روح سے معمور ہے جو قرآن مجید کی بدولت اس میں پیدا ہوئی۔ وہ اقوام و امم کی عادات و خصائل پر حکم لگاتا ہے تو اس میں بھی زیادہ تر قرآن پاک ہی سے استفاد ہ کرتا ہے‘‘۔

اس مضمون کی شانِ نزول یہ ہے کہ کچھ عرصے سے میں ابن خلدون پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں جس کی فرمائش لاہور کے ایک ناشر نے کی ہے۔ کتاب تو نہ جانے کب مکمل ہو گی، کب چھپے گی اور کب بازار میں آئے گی، میں نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے ہاں کے ایک مبتدی اور اوسط قاری کے لیے ابن خلدون کے بارے میں کچھ اہم اور بنیادی معلومات مہیا کردوں، جن سے ہمارے ہاں اکثر لوگ بے خبر ہیں۔
میرا یہ مضمون اگر بہ زبانِ انگریزی امریکا میں شائع ہوتا تو امریکی لوگ اس کے بارے میں کہتے:
It is an idiot`s guide to Ibn-e-Khaldun
آج کل اوسط قاری اور مبتدی کے لیے امریکا میں Idiot کا لفظ بہت استعمال ہونے لگا ہے۹ ۔ وہ لوگ بہت لائق فائق اور مہذب جوٹھہرے!

حواشی
1۔ اس لوک داستان کا پورا نام ہے الف لیلہ و لیلہ (ایک ہزار اور ایک راتیں)۔
2۔ تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کا مقالہ ’’الف لیلہ عربی ادب میں‘‘ جو اس کی کتاب ’’مضامین‘‘ (عربی ادب میں مطالعے) میں شامل ہے۔
3۔ ’’طبقات ابن سعد‘‘ جو مقالات شبلی جلد چہارم میں پہلا مقالہ ہے۔
4۔ پانچ بیٹیوں کے علاوہ ابن خلدون کے دو بیٹے بھی تھے۔ محمد اور علی، جو مصر بہ خیریت پہنچ گئے تھے۔
5۔ ابن خلدون کی ’’تاریخ‘‘ کا پورا نام یوں ہے:
’’العِبرَ و دیوان المبتدأ والخیر فی ایام العرب والعجم والبربر و من عَامَرھم من ذوی السلطان الاکبر‘‘
(عبرتوں کا ذخیرہ، اور عرب، عجم اور بربر اور ان کے معاصر صاحبِ اقتدار ہستیوں سے متعلق اگلے اور پچھلے حالات کا مجموعہ)
6۔ دیکھیے محترمہ فہمیدہ عتیق (کراچی) کے تحقیقی مقالے ’’ابن خلدون اور جدید تعلیمی نظریات‘‘کے شروع میں ان کا لکھا ہوا ’’حرفے چند‘‘۔
7۔ ٹائن بی: ’’سٹڈی آف ہسٹری‘‘ جلد ۳، صفحہ۳۲۲۔
8۔ علامہ اقبال کا انگریزی خطبۂ پنجم ’’اسلامی ثقافت کی روح‘‘ از تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ اردو ترجمہ سید نذیر نیازی۔
9۔ مثلاً:
An idiot`s guide to Socialism
An idiot`s guide to Political Philosophy
An idiot`s guide to French Revolution