حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ

الحمد اللہ ماہ ربیع الاول 1438 ھ شروع ہے یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں سیدالکائنات فخر موجودات ہمارے سچے اورپیارے پیغمبرحضرت محمدمصطفی احمدمجتبیﷺ کی ولادت طیبہ ہوئی تھی۔ معتبر روایات کے مطا بق 12ربیع الاول بروز سوموار بوقت صبح صادق مطابق23 اپریل 570ء واقعہ فیل کے پچاس یاپچپن روز بعداور سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی وفات سے 6113 برس بعد آپ کا سیدہ آمنہ ؓ کی گود میں ورود مسعود ہوا ۔

آپ ﷺعرب کے مشہورقبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔آپﷺ کے پردادا کا نام حضرت ہاشم ہے اس لیے ہاشمی کہلا تے ہیں ۔آپﷺکے والدماجدکا اسم گرامی حضرت عبدا للہ اور والدہ ماجدہ کانام سیدہ حضرت آمنہؓ ہے۔ آپ ابھی والدہ صاحبہ کے بطن مبارک میں تھے کہ والد محترم سیدنا حضرت عبد اللہؓ بغرض تجارت ملک شام گئے واپسی پر بیمار ہو گئے اور اپنے سسرال کے ہاں مدینہ طیبہ ٹھہر گئے، وہیں آپ کا انتقال ہو گیا۔ اور قبر مبارک مدینہ طیبہ میں ہی بنی۔ آپ ﷺ جب والدہ صاحبہ کے بطن مبارک میں تھے تو انہیں اللہ تعالی کی طرف سے بہت سی غیبی بشارات دی گئیں۔ بہت سے عجائبات دیکھنے میںآ ئے۔ جب دھوپ میں چلتی تھیں تو بادل سایہ فگن ہو جا تا تھا۔نو یلے پتھر اور کا نٹے موم کی طرح نرم ہو جاتے تھے۔ خواب میں اللہ تبارک وتعالی جل جلالہ وعم نوالہ کے فرشتے بشا رت دیتے کہ اے سیدہ آ منہؓ تیرے بطن مبارک میں وہ بچہ ہے جو اولین آخرین کاسردار ہے۔

آپ کی آمد کی اطلاع سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی امتوں کو دے چکے تھے ۔۔ولادت باسعادت کے روز بہت سی برکات و عجائبات کا ظہور ہوا۔پیدا ہو تے ہی سجدہ میں پڑ گئے۔اورزباں مبارک پر تھا لا الہ الا اللہ انی رسول اللہ۔اسی رات ایوان کسرٰی کے چودہ کنگرے گر پڑے۔دریائے سادہ خشک ہو گیا اور فارس کا ہزار سالہ آ تش کدہ یکدم سرد پڑ گیا۔اسی رات ایک سرخ ستارہ آسمان پرطلوع ہوا اور یہود و نصاری کے علماء نے اعلان کیا کہ آج کی رات نبی آخر الزمان کا ظہور ہو گیا ۔ سیدنا حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہؓ بنت عبداللہ جو سیدہ حضرت آمنہؓ کے پاس تھیں فرماتی ہیں کہ آپ کی پیدائش کے وقت پورا گھر نور سے منور ہو گیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آسماں کے ستا رے زمیں کی طرف جھکتے ہیں اور اٹھتے ہیں۔جو در اصل آپ کی خدمت میں سلام پیش کر رہے تھے۔آپ ناف بریدہ و مختون پیدا ہوئے تھے۔

ولادت طیبہ کے بعد سب سے پہلے والدہ محترمہ سیدہ حضرت آمنہؓ نے چند روزدودھ پلایا پھریہ سعادت حضرت ثویبہؓ کو حا صل ہوئی اس کے بعد خوش بخت حضرت حلیمہ سعدیہ نے یہ شرف پایا ۔ حضرت حلیمہ سعدیہ کے گھر چار سال کی عمر مبارک تھی کہ جبریل امین ایک فرشتہ کے ہمراہ تشریف لائے اورشق صدر فرما کردل سے ایک سیاہ رنگ کانقطہ نکال دیا اور نور بھر کر دل کو سی دیا اس واقعہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ آپ ﷺ کوسیدناحضرت عبدالمطب کے پاس لے آئیں انہوں نے اس خدمت گذاری کے صلے میں بہت سے اونٹ، پچاس رتن سونا مع پارچا ت بطور انعام دیا۔ اس کے بعد والدہ محترمہ کے پاس رہے اورحضرت ام ایمنؓ آپ کی خدمت گذاری پرمعمور رہیں۔ عمر مبارک کا چھٹا سال تھا کہ والدہ صاحبہ کے ہمراہ مدینہ طیبہ ننہال کو مل کر واپس مکہ مکرمہ تشریف لا رہے تھے کہ مقام ابوا پر ماں کے سایہ سے محروم ہوگئے۔اسی مقام پر مہربان ماں کی قبر مبارک بنی۔

عمر مبارک آٹھ سال تھی کے دادا محترم کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ پھر مہربان چچا سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ کے والد جناب ابی طالب نے اپنی کفالت میں لے لیا اور زندگی بھر جان نچھاورکرتے رہے۔ عمر مبارک بارہ برس سے کچھ اوپر تھی کہ بغرض تجارت چچا جان کے ہمراہ شام کے سفر پر تشریف لے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑے ولی اللہ حضرت بحیرا راہب سے ملاقات ہوئی۔ اس نے جناب ابی طالب سے کہا یہ آپ کا بھتیجاجو ہے اس میں وہ تمام علامتیں موجود ہیں جو نبی آخر الزماں کی ہیں۔ آپ کی زندگی مبارک انتہائی پاکیزہ تھی۔ اہل مکہ آپ ﷺ کو صادق و امین کے خطاب سے پکارا کرتے تھے ۔پچیس سال کی عمر مبارک میں آپ نے ام المومنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کے فرمانے پر مال تجارت لے کر میسرہ غلام اورخزیمہ بن حکیم کے ہمراہ پھر اسی مقام پر پہنچے جہاں حضرت بحیرا راہب سے ملاقات ہوئی تھی ۔وہ اب خلد نشین ہو چکے تھے۔اور اس معبد خانہ کے انچارج حضرت نسطورا راہب تھے۔ انہوں نے بھی آپ کی نبوت کی شہا دت دی تھی۔ چند روز میں پورا مال فروخت ہوگیا اور بہت سا اللہ کا فضل رزق حلال منا فع میں ملا ۔سفر سے واپسی پر میسرہ غلام نے نسطورا راہب کی تصدیق نبوت اور سفر کے عجائبات دھوپ میں بادل کا سایہ کرنا، پتھروں کا سلام کرنا، درختوں کی ٹہنیو ں کا جھک جانا بیان کیا ۔ تو حضرت خدیجۃ الکبریؓ نے یہ حال اس دور کے بہت بڑے ولی اللہ سیدنا حضرت ورقہ بن نوفل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا خدیجہ یہ صاحب نبی آخر الزما ں ہیں۔ جس پر حضرت خدیجہ جن کی عمر مبارک چالیس برس تھی انہوں نے آپ سے نکاح کا کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔خاندانی رابطہ ہوا آخر ایک روز چچا ابو طالب اور چچا حمزہ چند رؤسائے قریش کے ہمراہ آپ کی بارات لے کر سیدہ خدیجۃ الکبرٰی کے دولت کدہ پر پہنچے اور آپ کے چچا امر بن اسد نے آپ سے نکاح کر دیا ۔

یہ ہی وہ ملکہ جنت ہے جس کے بطن مبارک سے حضور اکرم ﷺ کی چار شہزادیاں حضرت زینب ،ؓ حضرت رقیہؓ  حضرت ام کلثومؓ ، حضرت فاطمہؓ اور دوشہزا دے حضرت قاسمؓ اور حضرت عبد اللہؓ جن کا لقب طیب و طا ہر تھا پیدا ہوئے ۔ عمر مبارک پینتیس برس کی تھی جب رؤوساء مکہ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر جدید کی۔اور حجر اسود کے نصب کرنے کا اعزاز آپ ﷺ کو حاصل ہوا ۔حضور اکرم ﷺ اپنی فطرت سلیمہ کے تحت مکہ کے ماحول سے الگ تھلگ رہنے کے لیے جبل نور پر و اقع غار حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ اور وہیں کئی کئی روز اللہ کی عبادت میں مصروف رہ کر وا پس تشریف لا تے ۔ جب عمر مبارک چا لیں برس ہو گئی تو ایک روز اسی غار حرا میں یاد خدا وندی میں مصروف تھے کہ اچا نک اللہ تعالی کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبریل علیہ السلام ظا ہر ہوا۔ اور ایک ریشمی کپڑے پر سورہ علق کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوئی پیش کرتے ہوئے فرمایا اقرا با سم ربک الذی خلق۔ آپ نے فرمایا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ کیونکہ تمام انبیاء کرام براہ راست اللہ تعالی کے شاگرد ہو تے ہیں ۔وہ کسی انسان سے پڑھے ہوئے نہیں ہو تے۔ اس پر نوری فرشتے نے آپ کو سینے سے لگا کر دبایا اس کے سا تھ ہی علوم الہی کے وہ خزانے جو فرشتہ اللہ تعالی سے امانت لے کر آ یا تھا، سینہ محمدی ﷺ میں منتقل ہوگئے۔آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ مخلوق خدا کو پیغام رسالت پہنچائیں۔

آپ ﷺ نے غار سے واپس آکر دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شرع فرمایا جوکہ تین سال تک خاموشی سے چلتا رہا۔ایک روز آپﷺ نے کوہ صفا پرچڑھ کرقبائل قریش کو پکا را جب سب لوگ جمع ہوگئے تو آپﷺ نے اپنے رسول اللہ ہونے کا برملا اعلان فرمادیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ کی توحید کا اعلان فرماتے ہوئے کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے کی دعوت دی۔ اہل مکہ جو کہ شرک کے عادی تھے ان میں سے اکثر حاضرین نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور شدید دشمنی پر اتر آئے ۔ مسلسل بقیہ دس سالہ مکی زندگی آزمائشوں اور پریشانیوں کی نظر ہوگئی ۔11 نبوی میں معراج شریف کے انعام سے آپﷺ کو نوازا گیا 13نبوی میں حضور اکرم ﷺ کو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم خدا وندی ملا۔ اور آپﷺ 27 صفر المظفر کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوکر 3 روز غار ثور میں جلوہ افروز رہے۔ یکم ربیع الاول کو غار ثو ر سے روانگی ہوئی۔آٹھ ربیع الاول کو بستی قبا پہنچے۔ 22 ربیع الاول کو قبا ء سے مدینہ طیبہ میں ورود مسعود ہوا۔

مدینہ طیبہ پہنچ کر آپ ﷺنے پہلا کام خانہ خدا مسجد نبوی کی تعمیر کا کیا۔ مسجد کے سا تھ ایک چبوترہ صفہ نامی مدرسہ برائے تعلیم دین بنوایا ۔ اور دو مختصر سے مکان دو ازواج مطہرات حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضر سودہؓ کے لیے تعمیر فرمائے۔ مدینہ طیبہ جاکر ایک فلاحی ریاست قائم فرمائی جس میں باقاعدہ طور پر حکومتی تما شعبہ جات اور عدالتی نظام قائم فرمایا۔ مدینہ طیبہ میں حکم جہاد بھی نازل ہوا اور آپ ﷺ نے دس سالہ مدنی زندگی میں 27 غزوات میں بنفس نفیس شرکت فرمائی۔ اور 83 سرایا ہوئے یعنی وہ جنگیں جن میں اصحاب رسول تشریف لے گئے ۔

10ہجری کوحجۃ الودع کا ارادہ فرمایا 25 ذیقعد 10 ہجری کو مدینہ طیبہ سے رو انہ ہوئے۔ 4 ذولحج کو مکۃ المکرمہ پہنچے، 8 ذولحج کو منیٰ تشریف لے گئے۔ 9 ذولحج کو عرفات کے میدان میں خطبہ حجۃ الوداع دیا ۔سورہ مائدہ کی آیت نمبر 3جس میں تکمیل دین کی بشارت ہے، اسی وقت نازل ہوئیں اور آپﷺ نے پڑھ کر سنائیں۔ 10 ذوالحج کو منیٰ میں پہنچے اور 100اونٹوں کی قربانی دی بقیہ تمام ارکان حج ادا فرماکر واپس مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔جب دنیا میں تشریف لانے کا مقصد پورا ہوگیا اور دین مکمل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں پوری ہوگئیں تو آپﷺکوسفرآخرت کی تیاری کے لیے اشارہ دیدیا گیا۔26 صفر المظفر 11ہجری کو آپ نے آخری لشکر جیش اسامہ روانہ فرمایا مگردوسرے ہی روزطبیعت خراب ہوگئی۔ سر درد اور بخار کی کیفیت شروع ہوگئی انہی دنوں میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اورسب کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ احد کے شہدا سے بھی ملنے کے لیے تشریف لے گئے۔وفات شریف سے 5 روز پیشتر جمعرات کو نماز ظہر پر مسجد نبویﷺمیں تشریف لائے اور زندگی مبارک کا آخری خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں اپنی آخری سفر کی تیاری کا عندیہ دیا۔اور بہت سی نصیحتیں فرمائیں۔ پھر عصر و مغرب بھی خود پڑھائی عشاء کی نماز پر کمزوری زیادہ بڑھ گئی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا مصلیٰ عطاء فرماکر نماز عشاء پڑھانے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اس طرح سے اپنی قائم مقامی کا شرف بخش دیا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے سوموار صبح کی نمازتک سترہ نمازیں حضور اکرم ﷺکی موجود گی میں پڑھائیں۔

آپﷺکی طبیعت سوموارکے روز زیادہ خراب ہونا شروع ہوگئی۔ تمام ازواج مطہراتؓ اور صاحبزادی فاطمۃ الظہرہؓ پاس تھیں۔ اسی روز اپنی اس لاڈلی شہزادی کو خاتون جنت کا خطاب دیا ۔تھوڑے ہی وقت کے بعد خالق حقیقی سے ملاقات کی گھڑی قریب آگئی۔ آپ ﷺکا سر مبارک سیدہ عائشہ صدیقہؓ اپنی گود میں رکھے ہوئے تھیں۔اچانک سانس کی آواز تیز ہوگئی آپﷺنے دونوں ہاتھ اٹھاکرآسمان کی طرف دیکھااورفرمایا الٰہم فی الرفیق اعلیٰاورروح مبارک پروازکرگئی انا للہ انا الیہ راجعون۔

یہ واقعہ بارہ ربیع الاول بروز پیر پیش آیا اس وقت آپﷺکی عمر مبارک 63 برس تھی۔غسل مبارک حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت عباس ،ؓ ان کے دو صاحبزادوں افضل اورکسم اورحضرت اسامہ بن زیدؓ نے دیا۔کفن دے کر جسم عنبریں کو زیارت خاص و عام کے لیے رکھ دیا گیا۔وفات شریف کی خبر سے پورا ملک سوگوار ہوگیا۔ زائرین مدینہ کی طرف ا مڈ پڑے سوموار سے منگل و بدھ کی درمیانی رات تک لوگ آتے رہے،زیارت کرتے رہے اوردرود و سلام پڑھتے رہے۔یہ سلسلہ کبھی بھی ختم نہ ہونے والا تھا۔ بالآخر منگل و بدھ کی درمیانی رات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے ہجرہ مبارک میں جہاں بوقت وصال شریف آپﷺکی چار پائی تھی، وہیں قبر مبارک بنائی گئی۔ اورآہوں اور سسکیوں کے ساتھ آنسوں کی برسات میں جسم اطہر کو خاک پاک کے حوالے کردیا گیا ۔اسی قبر مبارک پر تعمیر کرد ہ گنبد خضرا ء ہے جو آج زائیرین کی آنکھوں کو نور نظر اور طراوت بخش رہا ہے۔ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و ازواجہ واولادہ واصحابہ اجمعین وسلم تسلیماکثیرا کثیرا۔