سانحۂ کربلا اور شہادت امام حسین (1)
- تحریر مفتی محمد وقاص رفیعؔ
- بدھ 27 / ستمبر / 2017
- 10895
ضروری تمہید:
تاریخ عالم کا ورق ورق انسان کے لئے عبرتوں کا مرقع ہے ۔ بالخصوص تاریخ کے بعض واقعات تو انسان کے ہر شعبہ زندگی کے لئے ایسے عبرت ناک ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ ٗ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینص کی مظلومانہ شہادت کابھی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اور شاید قیامت تک کوئی ایسا واقعہ رُونما نہ ہوکہ جس پر خود تاریخ کو بھی رونا آگیا ہو ، لیکن امام حسینص کی شہادت کا واقعہ ایسا درد ناک اور اندوہ ناک واقعہ ہے کہ جس پر انسانوں کی سنگ دل تاریخ بھی ہچکیاں لے لے کر روتی رہی ہے۔ اس میں ایک طرف ظلم و ستم ، بے وفائی و بے اعتنائی اور محسن کشی و نسل کشی کے ایسے دردناک والم ناک واقعات ہیں کہ جن کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے ۔ دوسری طرف اہل بیت اطہار ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ اور ان کے ستر، بہتر متعلقین کی ایک چھوٹی سی جماعت کا باطل کے مقابلہ کے لئے ثابت قدمی اور جان نثاری جیسے ایسے محیر العقول واقعات ہیں کہ جن کی نظیر تمام عالم انسانیت کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔
تاریخی پس منظر:
حضرت معاویہ کی وفات کے بعد تخت خلافت جب خالی ہوا تو یزید نے فوراً اپنی خلافت کا اعلان کردیا ، کیوں کہ وہ پہلے سے ہی ولی عہد مقرر ہوچکا تھا ۔لہٰذا اس نے امام حسین صسے بھی اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مطالبہ کردیا ۔لیکن امام حسین صنے کسی کی پرواہ کیے بغیر اس بات کا سرعام اعلان کردیا کہ یزید خلافت کا اہل نہیں ہے ۔ اس لئے اسے خلیفۃ المسلمین نہیں بنایا جاسکتا ۔ یزید کو جب اس بات کا علم ہوا کہ امام حسین ص نے میری بیعت سے انکار کردیا ہے تو اس نے والئ مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ وہ انہیں میری بیعت پر مجبور کرے اور ان کو اس معاملہ میں مزید کسی قسم کی مہلت نہ دے ۔ ولید کے پاس جب یہ خط پہنچا تو وہ فکر میں پڑگیا کہ اس حکم کی تعمیل وہ کس طرح کرے ۔ چنانچہ اس نے سابق والی مدینہ مروان بن حکم کو مشورہ کے لئے بلایا ، اس نے کہا کہ اگر امام حسین ص یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو فبہا ورنہ ان کو یہیں پرقتل کردیا جائے ۔نیز مروان نے امام حسین ص کے سامنے ولید سے کہا کہ ابھی امام حسینص تمہارے ہاتھ میں ہیں اس لئے ان سے درگزر نہ کرو اگر یہ تمہارے ہاتھ سے نکل گئے تو پھر دوبارہ کبھی تمہارے ہاتھ نہیں آئیں گے ۔ لیکن ولید ایک عافیت پسند شخص تھا اس نے مروان کی بات کی پرواہ کیے بغیر امام حسین صکے لئے راستہ کھول دیا اور وہ واپس چل پڑے۔ مروان نے ولید کو ملامت کی کہ تو نے موقع ضائع کردیا ۔ مگرولید نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں امام حسین صکو قتل کرنے سے ڈرتا ہوں ، کہیں ایسا نہ ہوکہ قیامت کے دن وہ اپنے خون کا مطالبہ مجھ سے کردیں ، اس لئے کہ امام حسین صکے خون کا مطالبہ جس کی گردن پر ہوگا وہ قیامت کے دن نجات نہیں پاسکے گا۔
مکہ کی طرف ہجرت:
امام حسین صاپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ منورہ سے نکل کر مکہ مکرمہ کی طرف چل دیئے اور وہیں جاکر پناہ گزین ہوگئے ۔ یزید کو جب ولید کے عفو و درگزر کا علم ہوا تو اس نے انہیں مدینہ سے معزول کردیا۔
اہل کوفہ کے خطوط:
اہل کوفہ کو جب اس بات کا علم ہوا کہ آپ صنے یزید کی بیعت سے انکار کردیا ہے تو کچھ حضرات سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان پر جمع ہوئے اور امام حسینص کو خط لکھا کہ ہم بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آپ فوراً کوفہ تشریف لے آیئے ، ہم سب آپ کے ہاتھ ہر بیعت کرلیں اور یزید کی طرف سے مقرر کیے ہوئے کوفہ کے امیر نعمان بن بشیرص کو یہاں سے نکال دیں گے ۔ اس کے دو دن بعد ان لوگوں نے اسی مضمون کا ایک خط امام حسینص کی طرف لکھا اور چند دوسرے خطوط بھی آپ کے پاس بھیجے ،جن میں یزید کی شکایات اور اس کے خلاف اپنی نصرت و تعاون اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا یقین دلایا گیا تھا ۔ علاوہ ازیں چند وفود بھی آپ کی خدمت میں بھیجے ۔ جن سے متاثر ہوکر امام حسین صنے بڑی حکمت و دانش مندی سے یہ کام کیا کہ بجائے خود جانے کے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلص کو کوفہ روانہ کیا اور ان کے ہاتھ یہ خط لکھ کر اہل کوفہ کی طرف بھیجاکہ : ’’میں اپنی جگہ اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلص کو بھیج رہا ہوں تاکہ یہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر مجھے ان کی اطلاع دیں۔ اگر حالات درست ہوئے تو میں فوراً کوفہ پہنچ جاؤں گا۔‘‘
کوفہ آنے کی دعوت:
مسلم بن عقیل صنے جب چند دن کوفہ میں گزارے تو انہیں اندازہ ہواکہ یہ لوگ واقعتاًیزید کی بیعت سے متنفر اور امام حسینص کی بیعت کے لئے بے چین ہیں ، چنانچہ انہوں نے چند دنوں میں ہی اہل کوفہ سے اٹھارہ ہزار مسلمانوں کی امام حسینص کے لئے بیعت کرلی اور حسب ہدایت حضرت حسینص کو کوفہ آنے کی دعوت دے دی۔(الکامل فی التاریخ ) ۔ جب لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوئی امام حسین صنے کوفہ جانے کا عزم کرلیا ہے تو بجز عبد اللہ بن زبیرص کے اور کسی نے آپ کو کوفہ جانے کا مشورہ نہیں دیا ، بلکہ بہت سے حضرات ٗحضرت حسینص کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ مشورہ دیا کہ آپ کوفہ ہرگز نہ جائیں اور اہل عراق و اہل کوفہ کے وعدوں اور ان کی بیعتوں پر بھروسہ نہ کریں ، وہاں جانے میں آپ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔
کوفہ کے لئے روانگی:
لیکن امام حسین صنے کسی کی ایک نہ سنی اور ۸ یا ۹ ذی الحجہ ۶۰ ھ کو آپ مکہ سے کوفہ کے لئے روانہ ہوگئے ۔ کوفہ میں جب ابن زیاد کو امام حسینص کی کوفہ کی طرف روانگی کی اطلاع ملی تو اس نے مقابلہ کے لئے پیشگی ہی اپنا ایک سپاہی قادسیہ کی طرف روانہ کردیا ۔ امام حسین صجب مقام زیالہ پر پہنچے تو آپ کو یہ خبر ملی کہ آپ کے رضاعی اور چچا زاد دونوں بھائیوں کو اہل کوفہ نے قتل کردیا ہے ۔ اب امام حسین صنے اپنے تمام ساتھیوں کو ایک جگہ جمع کرکے ان سے فرمایا کہ اہل کوفہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور ہمارے متبعین ہم سے پھر گئے ہیں ۔ امام حسینص اور ان کے ساتھی ابھی راستہ میں چل ہی رہے تھے کہ دوپہر کے وقت دور سے کچھ چیزیں حرکت کرتی نظر آئیں ، غور کرنے پر معلوم ہوا کہ گھوڑ سوار ہیں ۔ اس لئے امام حسینص اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑی کے قریب پہنچ کر محاذِ جنگ بنالیا ۔
حر بن یزید کا ایک ہزار کا لشکر:
ابھی یہ حضرات محاذ کی تیاری میں مصروف ہی تھے کہ ایک ہزار گھڑ سوار وں کی فوج حر بن یزید کی قیادت میں مقابلہ پر آگئی اور ان کے مقابلہ کے لئے آکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ حر بن یزید کو حصین بن نمیر نے ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج دے کر قادسیہ بھیجا تھا ، یہ اور اس کا لشکر آکر امام حسینص کے مقابل ٹھہر گئے ۔ امام حسینص نے حر بن یزید سے فرمایا: ’’تمہارا کیا ارادہ ہے؟۔‘‘ حر بن یزیدنے کہا: ’’ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم آپ کو ابن زیاد کے پاس پہنچادیں ۔‘‘ امام حسین صنے فرمایا : ’’میں تمہارے ساتھ ہر گز نہیں جاسکتا ۔‘‘ حر بن یزید نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! پھر ہم بھی آپ کو یہاں تنہا نہ چھوڑیں گے۔‘‘
حر بن یزید کا اعتراف حق:
اس کے بعد حر بن یزید نے کہا : ’’مجھے آپ سے قتال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، بلکہ حکم یہ ہے کہ میں آپ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ کو ابن زیاد کے پاس کوفہ نہ پہنچادوں ۔ اس لئے آپ کوئی ایسا راستہ اختیار کریں جو نہ کوفہ جائے اور نہ مدینہ ، یہاں تک کہ میں ابن زیاد کو خط لکھوں اور آپ بھی یزید یا ابن زیاد کو خط لکھیں ۔ شاید اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی مخلص پیدا فرمادیں اور میں آپ کے ساتھ مقاتلہ کرنے اور آپ کو ایذا پہنچانے سے کسی طرح بچ جاؤں۔ امام حسینص نے عذیب اور قادسیہ کے راستہ سے بائیں جانب چلنا شروع کردیا اور حر بن یزید بھی اپنے لشکر سمیت ان کے ساتھ چلتا رہا ۔(تاریخ الامم و الملوک : ج ۶ ص ۲۲۰)
امام حسین کا خواب:
امام حسینص جب’’ نصر بنی مقاتل‘‘ پہنچ گئے تو آپ پر ذرا سی غنودگی طاری ہوگئی ، لیکن اس کی تھوڑی ہی دیر بعدآپ ’’ انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ کہتے ہوئے بیدار ہوگئے ۔ آپ کے صاحب زادے علی اکبر نے جب یہ سنا تو دوڑتے ہوئے آئے اور پوچھنے لگے : ’’ ابا جان! کیا بات ہے؟‘‘ امام حسینص نے فرمایا: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی گھڑ سوار میرے پاس آیاہے اور وہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ : ’’ کچھ لوگ چل رہے ہیں اور ان کی موتیں بھی ان کے ساتھ چل رہی ہیں ۔‘‘ اس سے میں سمجھا کہ یہ ہماری موت ہی کی خبر ہے۔‘‘ صاحب زادے نے عرض کیا : ’’اباجان! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟۔‘‘آپ نے فرمایا : ’’بلا شبہ ہم حق پر ہیں ۔‘‘ صاحب زادے نے عرض کیا : ’’پھر ہمیں کیا ڈر ہے ، جب کہ ہم حق پر مر رہے ہیں۔ ‘‘ امام حسین صنے ان کو شاباش دی اور فرمایا کہ : ’’واقعی تم نے اپنے باپ کا صحیح حق ادا کیا۔‘‘(ابن جریر : ج۶ص۲۳۲)
حر بن یزید پر جاسوسوں کا تسلط:
اس کے بعد امام حسین ص آگے کی طرف چل دیئے اور جب مقام’’ نینویٰ ‘‘پر پہنچے تو ایک گھڑ سوار کوفہ سے آتا ہوا نظرآیا ، یہ سب اس کے انتظار میں اپنی اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے ۔ اس نے آکر امام حسینص کو تو نہیں البتہ حر بن یزید کو سلام کیا اور ابن زیاد کا خط اس کو دیا ۔حر بن یزید نے ابن زیاد کا خط پڑھ کر اس کا مضمون امام حسینص کو سنا دیا اور ساتھ ہی اپنی مجبوری بھی ظاہر کردی کہ: ’’ اس وقت میرے سر پر جاسوس مسلط ہیں ، اس لئے فی الحال میں آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مصالحت نہیں کرسکتا۔‘ ‘ اس کے بعد ابن زیاد نے کوفہ سے عمرو بن سعد کو مجبور کرکے چار ہزار کا لشکر دے کر امام حسینص کے مقابلہ کے لئے بھیج دیا۔ عمرو بن سعد نے یہاں پہنچ کر امام حسینص سے کوفہ آنے کی وجہ پوچھی ، تو آپ نے پورا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ:’’ اہل کوفہ نے خود مجھے یہاں آنے کی دعوت دی ہے ۔ اگر اب بھی ان کی رائے بدل گئی ہو تو میں واپس مدینہ جانے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘ عمر بن سعد نے اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر ابن زیاد کی طرف لکھاکہ امام حسینص واپس جانے کے لئے تیار ہیں ۔ ابن زیاد نے جواب میں لکھا کہ امام حسین صکے سامنے صرف یہ ایک شرط رکھوکہ: ’’ وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔ ‘‘ جب وہ ایسا کرلیں گے تو پھر ہم غور کریں گے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ۔ اور ساتھ ہی عمر بن سعد کو یہ حکم دیا کہ وہ امام حسین اور ان کے ساتھیوں کا پانی بند کردیں ۔‘‘ یہ واقعہ امام حسینص کی شہادت سے تین دن پہلے کا ہے ۔
پانی پر تصادم:
چنانچہ عمر بن سعد نے ان کا پانی بالکل بند کردیا، یہاں تک کہ جب یہ سب حضرات پیاس کی شدت سے پریشان ہوئے تو امام حسینص نے اپنے بھائی عباس بن علی کو تیس گھڑ سواروں اور تیس پیادہ پاؤں کے ساتھ پانی لانے کے لئے بھیج دیا ۔ جب یہ لوگ پانی لینے کے لئے جارہے تھے تو راستے میں ان کا عمر بن سعد کی فوج سے مڈبھیڑ ہوئی، لیکن اس کے باوجود پانی کی تقریباً بیس مشکیں یہ حضرات بھر کر لے آئے ۔ اس کے بعد امام حسین صنے عمر بن سعد کے پاس پیغام بھیجا کہ آج رات کو ہماری ملاقات ایک دوسرے کے لشکروں کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ ہم سب بالمشافہ ایک دوسرے کے سامنے گفتگو کرسکیں۔‘‘ عمر بن سعد نے آپ کا یہ پیغام قبول کیا اور رات کو دونوں لشکروں کی باہم ملاقات ہوئی۔ (جاری)