پاکستان میں قرضوں کی معافی کے تاریخی حقائق

میڈیا پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں280ارب روپے سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے۔ 30سالوں میں سینکڑوں نجی کمپنیوں نے قرضے معاف کر وائے جنکی تعداد400کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ قرضے 2015میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران معاف کئے گئے۔ 2013میں چھ ارب روپے، 2014میں 5 ارب روپے اور2015میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مالیت کے280ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔

گزشتہ 30سالوں میں ایک ہزار کمپنیوں کے قرضے معاف کئے گئے۔ اس کے علاوہ45ارب وپے کے زرعی چھوٹے بڑے قرضے معاف کئے گئے جس میں زیادہ تر جاگیر داروں کی طرف سے واجب الاد تھے یا وہ ہاریوں کے نام پر بڑے زمینداروں نے لے کر ہڑپ کر لئے تھے۔ نیشنل بینک نے129کمپنیوں ، حبیب بینک نے239 اور یونائیٹڈ بینک نے179کمپنیوں کے قرضے معاف کیے۔ پاکستان میں قرضوں کی معافی کی کہانی کا آغاز صدر ایوب خان کے عہد سے ہوتا ہے جبکہ اس دور میں عالمی بینک کے تعاون سے صنعتی ترقیاتی بینک کا قیام عمل میں لایا گیا اور آئی ایم ایف کے صنعتکاری کے فروغ کے نام پر انڈسٹریز سمینٹ اور چینی بنانے کے کارخانے شامل تھے اور اُن سے متعلقہ قرضہ بات عالمی مالیاتی اداروں سے معاف کروا ئے گئے تھے۔ جبکہ اس وقت دیگر نجی صنعتکار خاندان سہگل ، راؤ، آدم جی حبیب فیملی وغیرہ بھی صنعتکاری کے فروغ کے عمل میں مصروف تھیں۔ ان گروپوں نے اپنے اپنے بینک قائم رکھے تھے جن کی اجازت نہیں تھی۔ چنانچہ اسی دولت کے ارتکاز نے بائیس امیر ترین گھرانوں کو جنم دیا تو پیپلزپارٹی نے اپنے سیاسی مقاصد کے تحت بینکوں اور صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ پارٹی کے اندر سوشلسٹ نظام کو سائینسی بنیادوں پر چلانے والے لیڈر کی عدم موجودگی میں افسر شاہی کی نا اہلیت سے نجکاری کے فوائد لیبر اور عوام تک نہ پہنچائے جا سکے۔ جس سے ان تمام اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی اور مالیاتی ڈیفالٹ سے دو چار ہوئے۔

آج بھی ٹیکسوں سے 500ارب روپے کی خطیر رقم ان اداروں کو چلانے اور ملازموں کو تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ کی جا رہی ہے۔ سٹیل ملز بند ہو چکی ہے۔ پی آئی اے اپنی زندگی کے آخری ہچکولے لے رہی ہے جس کی وجہ وہاں پر سر پلس سٹاف اور پیدواری عمل کا رک جانا ہے۔ جنرل ضیا ء الحق نے جونیجو کے عہد حکومت میں سیاسی حمایت حاصل کرنے کیلئے مختلف سیاسی خاندانوں کے19ارب روپے کے قرضے معاف کیے۔ جبکہ دیگر سیاسی ادوار میں سیاسی بنیادوں پر کاروبار اور صنعتیں چلانے کی اہلیت نہ رکھنے والے کئی خاندانوں کو ٹیکسٹائیل ملوں، فوڈ انڈسٹری، چینی بنانے کے کارخانے، سمینٹ انڈسٹری کیلئے قرضے دیئے گئے اور کچھ ایسی قرضے حاصل کئے گئے مگر پراجیکٹس ناکامی سے دو چار ہوئے جس سے بینکوں میں قرضوں کے ڈیفالٹ کی مالیت بڑھتی گئی۔ اور بینکنگ انڈسٹری اس بری صورتحال سے دو چار ہوئی کہ ہمارے بینکوں کی قرضہ دینے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ بیرون ملک بینکوں سے ہمارے لیٹر آف کریڈیٹ کھولنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کو روز مرہ ضروریات پوری کرنے کیلئے سرمایہ ڈالنا پڑا۔ یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ سیاستدانوں اور صنعتکاروں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ سے قرضے معاف کروانے شروع کر دیئے جس کی ادائیگی بینک کے کمائے ہوئے منافع سے کی جاتی ہے۔ جس سے کھاتہ داروں اور شیئر ہولڈرز کو کم منافع ملتا تھا۔

بینکوں کے قرضوں کے ڈیفالٹ کی وجہ دانستہ ارادے کے ساتھ تھی۔ پہلے سے قائم صنعت کا سرمایہ دوسری انڈسٹری میں منتقل کرکے اس کو دیوالیہ قرار دلواؤ اور قرضہ معاف کروا لو۔ آج پاکستان میں کئی خاندان قرضے معاف کروانے کے باوجود پہلے سے زیادہ خوشحال دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کا دوسری صنعتی ایمپائر کے50اداروں کا کنٹرول فوجی شاہین اور شاہین فاؤنڈیشن ، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے پاس ہے۔ ان اداروں نے اپنے اثر رسوخ سے سستے ریٹ پر قرضے حاصل کئے۔ امپورٹ ڈیوٹیز پر رعایت حاصل کی اور قرضے بھی معاف کروائے۔ آج بھی بہتر انتظامامی صلاحیتوں کی وجہ سے کامیابی کے ساتھ ادارے چلا رہے ہیں۔ بینکوں میں قرضوں کی ڈیفالٹ کی مالیت بڑھتے ہوئے پروڈینشل ریگو لیشن کا اجرا کیا گیا اور بینکوں کو کہا گیا کہ ڈیفالٹ کرنے والے قرضوں کیلئے اپنے سالانہ منافع سے مختلف شرح کے تعداد رقم مختص کریں۔ چنانچہ اس عمل میں بھی قرضے معاف کروائے گئے۔ قرضوں کی معافی کا سب سے زیادہ فائدہ میاں برادران نے ضیاء الحق عہد سے لے کر نیشنل بینک قرض سٹیلمنٹ میں اٹھایا ہے۔ بینکوں کی نجکاری میں سب سے زیادہ دخل سیاسی بنیادوں پر قرضوں کی تقسیم کا عمل تھا۔ مگر یہ کام اب بھی زرعی ترقیاتی بینک اور نیشنل بینک کے ذریعہ جاری ہے۔ ملک میں بر سر اقتدار رہنے والے تمام پارٹیوں کے کرتا دھرتا قرضوں کی معافی سے وقتاً فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔

نواز شریف حکومت نے بر سر اقتدار آنے کے بعد بجلی کمپنیوں کو فوراً480روپے کی ادائیگی کر دی تھی جس کے بعد سرکلر ڈیبٹ کی مختلف مدوں میں مالیت 9سو ارب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے اندرونی اور بیرونی طور پر بے پناہ قرضوں کا بوجھ قوم پر لاد دیا ہے۔ ستر سال میں ہم نے چالیس ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے تھے جبکہ گزشتہ چار سالوں میں ان کی مالیت پنتیس ارب ڈالر ہے۔ بنکوں میں جمع ہونے والا عوامی سرمایہ بھی گورنمنٹ ضمانت کے تحت حکومت قرضوں کی شکل میں حاصل کر رہی ہے۔ جس سے ملک میں مالیاتی بحران گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ یہاں پر قرضوں کی عدم ادائیگی اور ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ نہ ہونا اور برآمدات میں کمی ہے ۔

آج ہم مجموعی طور پر موجودہ حکومت کی ناکام مالیاتی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔